20 مارچ 2011 - 20:30

ایک طرف سے آل سعود نے بحرینی عوام کی قتل عام میں شرکت اور ان کے پر امن مظاہرے کچلنے کے لئے بحرین پر جارحیت کا اارتکاب کیا تو دوسری طرف سے نجد و حجاز و الشرقیہ کے عوام کی دولت سے قائم کردہ آل سعود کے ذرائع ابلاغ نے بڈھے چرخ (ہائنا، یعنی) برطانیہ سے مل کر مشترکہ ابلاغی منصوبے کے تحت انقلاب بحرین کے بارے میں غلط فہمی پیدا کرنے اور علاقے میں فرقہ وارانہ فضا پیدا کرنے کی سازش پر عملدرآمد شروع کیا ہے اور انہیں اہل فتوی کی حمایت بھی حاصل ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق العالم ویب سائٹ نے الشرق الاوسط کے ایک کالم کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے: بحرین کے معاملے میں آیت اللہ سید علی سیستانی اور قطر کے آل الثانی خاندان کے امام جمعہ شیخ یوسف قرضاوی کے درمیان اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔لندن سے شائع ہونے والے اس سعودی روزنامے نے سفسطہ کاری اور مغالطہ کاری سے استفادہ کرتے ہوئے یوں نتیجہ لیا ہے کہ "چونکہ اب سنیوں کے ایک بڑے عالم اور اہل تشیع کے بڑے عالم کے درمیان بحرین کے انقلاب کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے چنانچہ ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ہم علاقے میں فرقہ وارانہ اور مذہبی بحران کے نہایت شدید مرحلے پر پہنچ چکے ہیں؟!".الشرق الاوسط نے شیخ قرضاوی کی حالیہ ہرزہ سرائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ القرضاوی نے بحرینی انقلاب کو سنیوں کے خلاف شیعوں کا فتنہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے قبل تیونس، مصر، لیبیا اور یمن میں ظلم کے خلاف انقلابات بپا ہوئے تو میں نے ان کی حمایت کی لیکن بحرین میں پیش آنے والا واقعہ سنیوں کے خلاف ایک سازش اور فتنہ ہے!۔یادرہے کہ شیخ قرضاوی قطر کے شیخ آل ثانی کے سالے اور دوحہ کے امام جمعہ ہیں اور ان کے بہنوئی نے بھی آل خلیفہ خاندان کے بادشاہ کو بچانے کے لئے بحرین میں فوجی بھیج رکھے ہیں۔ قرضاوی کے تقوی کا حال یہ ہے کہ انھوں نے بحرین کے ال خلیفہ خاندان کے مظالم اور انقلاب میں شیعہ اور سنی عوام کی شرکت کو کلی طور پر نظر انداز کردیا ہے۔شیخ قرضاوی سنی علاقوں میں عیسائیوں کی تبلیغ پر خاموش رہتے ہیں لیکن شیعہ تبلیغ سے بری طرح شکوہ کرتے ہیں کہتے ہیں کہ سنی اکثریتی ممالک میں شیعہ لیکن بحرین کے شیعہ اکثریتی ملک میں ایک خاندان کی حکومت کو سنی حکومت سے تعبیر کرکے عوام کی مخالفت کرتے ہیں اور انہیں اس مقام پر یہ حقیقت نظر نہیں آتی کہ کسی اقلیت کو اکثریت پر مسلط کرنا غیر انسانی، غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے!۔سعودی روزنامے نے مزید لکھا ہے کہ آیت اللہ سیستانی نے بحرینی ملت کے خلاف ہونے والے جرائم کی مذمت کی ہے اور انھوں نے حوزہ نجف کی ایک روز چھٹی بھی کردی ہے اور عراق کے کئی شہروں میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔سعودی روزنامے نے پرامن مظاہرین پر ال سعود اور آل خلیفہ کے وحشیانہ حملوں کی طرف اشارہ کئے بغیر بحرین کو شیعہ سنی کے درمیان زلزلہ خیز لائن قرار دیا اور کہا کہ "بحرین ایسے کرتے میں تبدیل ہوگیا ہے جو گندی جنگ کے لئے اٹھائی گئی ہے!(الشرق الاوسط نے گویا یہاں ایک تاریخی کرتے کی طرف اشارہ کیا ہے)۔الشرق الاوسط نے یہ بیان کرنا گوارا نہیں کیا ہے کہ اتنے سارے سنی اکثریتی ممالک میں سنی اکثریت کی حکومتوں سے اگر فرقہ واریت پھیلنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے تو بحرین میں شیعہ اکثریت کی حکومت قائم ہونے سے فرقہ وارانہ زلزلہ کیونکر آئے گا؟ اور یہ کہ اکثریت پر اقلیت کی حکومت کیا فرقہ واریت کو ہوا دینے میں زیادہ مؤثر کردار ادا نہیں کرتی؟ الشرق الاوسط، شیخ قرضاوی اور خلیج فارس کے ساحلوں پر واقع خاندانی بادشاہتوں کی طرف سے انقلاب بحرین کو فرقہ واریت کا شاخسانہ قرار دینے پر اصرار کا مطلب کہیں یہ تو نہیں ہے کہ وہ وحدت و یکجہتی کے حقیقی داعی شیعیان اہل بیت (ع) کو اختلاف کا ہوا دکھا کر بحرین کے مظلوم عوام کی حمایت سے روکنا چاہتے ہیں؟ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ بحرین سعودی عرب کے شمال مشرق میں واقع ہے اور یمن جنوب میں واقع ہے اور امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ سمیت تمام استکباری طاقتیں تیل کے سب سے بڑی ذخائر پر مسلط آل سعود خاندان کی بادشاہت بچانے کے لئے ان دو ملکوں میں انقلاب کی کامیابی نہیں چاہتیں اور شیخ قرضاوی اور سعودی ذرائع ابلاغ نیز امریکی اور برطانوی روزنامے بھی آل سعود کی زبان میں بات کررہے ہیں اور امکریکہ و برطانیہ نے سعودیوں کو یمن اور بحرین میں مداخلت کی اجازت دے رکھی ہے اور آل سعود نے ان دونوں ملکوں میں فوجی مداخلت کررکھی ہے۔ اور ایک نہایت اہم حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ شیعہ اور سنی کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ سعودی خاندان کی حکومت ہے جس کو اندرونی طور پر زبردست مزاحمت کا سامنا ہے اور تاریخ میں پہلی بار اس وقت ہر روز اس ملک میں مظاہرے ہورہے ہیں اور ریاض میں کل تک مظاہرے جاری رہے ہیں جبکہ شیعہ اکثریتی علاقے الشرقیہ میں بھی مظاہرے ہورہے ہیں؛ گویا نجد و حجاز کے لوگ بھی اپنا فطری حق انتخاب، حق تقسیم قومی دولت، خودمختار عدلیہ اور پارلیمان کا مطالبہ کررہے ہیں چنانچہ وہ اپنے ساتہ ملے ہوئے ملکوں میں انقلابات کو ناکام بنانے کی سازشیں کررہا ہے تا کہ نجد و حجاز بھی کسی قسم کے وسیع انقلاب کی کامیابی سے نا امید ہوجائیں لیکن گویا عرصہ دراز سے تیل کا مزہ چکھنے والے خاندان کے لئے نوشتہ دیوار پڑھنے اور آمرین اور ظالم بادشاہوں کے انجام سے عبرت لینے کا امکان میسر نہیں ہے؛ انقلابات کامیاب ہونگے اور قرضاوی سمیت بحرینی قوم کو کچلنے کے لئے ان کے قتل کے فتوے دینے والے وہابی مفتیوں سمیت فرقہ واریت پھیلانے والی قوتیں اور امریکہ و برطانیہ دیکھتے رہ جائیں گی جبکہ بحرین اور یمن کے شیعہ اور سنی عوام کامیابی کا جشن منا منا کر ان کا جھوٹ ان ہی کی طرف لوٹائیں گے۔ یادرہے کہ بحرین سعودی عرب کا پڑوسی ملک ہے اور دوسری طرف سے آل خلیفہ خاندان نے بحرین کے ساحل پر امریکی بحریہ کو ایک اڈا دیا ہے جہاں امریکہ کا پانچواں بحری بیڑا تعینات ہے اور انقلاب کی کامیابی کی وجہ سے جہاں آل سعود خاندان نیز آل ثانی، آل نہیان، آل صباح، آل قابوس، مراکش کے آل حسن اور اردن کے آل حسین کی بادشاہتیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں تو دوسری طرف سے امریکہ کا بحری اڈدہ بھی اس کے ہاتھ سے نکل سکتا ہے اور یہ بھی وہ بڑی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں ہے چنانچہ چنانچہ درباروں اور درباری مولوی صاحبان سے یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ہمیشہ کی طرح اب بھی استعمار کے مفادات کا تحفظ کریں گو کہ زمانہ بدل چکا ہے اور قوموں کی سوچ بھی بدل چکی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110